Transliteration: (Wa asbahal lazeena tamannaw makaanahoo bil amsi yaqooloona waika annal laaha yabsutur rizqa limany ya shaaa'u min 'ibaadihee wa yaqdiru law laaa am mannal laahu 'alainaa lakhasafa binaa waika annahoo laa yuflihul kaafiroon (section 8))
{وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ: اور گزشتہ کل جو اس کے مقام و مرتبہ کی آرزو کرنے والے تھے۔} یعنی جو لوگ قارون کے مال ودولت دیکھ کراس کے خواہش مند تھے، جب انہوں نے قارون کاعِبْرَتْناک انجام دیکھاتو وہ اپنی اس آروز پر نادم ہو کر کہنے لگے :عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کیلئے چاہتا ہے رزق وسیع کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ فرمادیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی دولت عطا فرما کر ہم پراحسان نہ فرماتا تو ہم بھی قارون کی طرح زمین میں دھنسادئیے جاتے ۔بڑی عجیب بات ہے کہ کافر کامیاب نہیں ہوتے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات نہیں ملتی۔( روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۸۲، ۶ / ۴۳۶، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳ / ۴۴۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القصص آیت 82 تفسیر