Transliteration: (Summa inna Rabbaka lillazeena haajaroo mim ba'dimaa futinoo summma jaahadoo wa sabaroo inna Rabbaka mim ba'dihaa la Ghafoorur Raheem (section 14))
{ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ:پھر بیشک تمہارا رب ۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک وہ لوگ جنہیں ہجرت سے پہلے ان کے دین کے بارے میں مشرکین کی طرف سے تکلیفیں اور اَذِیَّتیں دی گئیں ،اس کے بعد انہوں نے ہجرت کی اور اپنے شہر، گھر اور خاندانوں کو چھوڑ کر اہلِ اسلام کے شہر مدینہ طیبہ منتقل ہو گئے۔ پھر انہوں نے اپنے ہاتھوں ، تلواروں اور زبانوں کے ساتھ مشرکین اور ان کے جھوٹے معبودوں کے خلاف جہاد کیا اور جہاد کرنے پر صبر کیا تو بیشک یہ بخشش کے مستحق ہیں ، اس لئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کی اس آزمائش کے بعد انہیں ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔( تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۷ / ۶۵۳، جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ص۲۲۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 110 تفسیر