قرآن - 16:113 سورہ النحل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

113
وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مِّنۡهُمۡ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ ٱلۡعَذَابُ وَهُمۡ ظَٰلِمُونَ

Transliteration: (Wa laqad jaaa'ahum Rasoolum minhum fakazzaboohu fa akhazahumul 'azaabu wa hum zaalimoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ(113) || اور بیشک ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول تشریف لایا تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں عذاب نے پکڑا اور وہ بے انصاف تھے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور بیشک ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول تشریف لایا تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں عذاب نے پکڑلیا اور وہ زیادتی کرنے والے تھے۔ || اور بیشک ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول تشریف لایا تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں عذاب نے پکڑلیا اور وہ زیادتی کرنے والے تھے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 113 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ:اور بیشک ان کے پاس انہیں  میں  سے ایک رسول تشریف لایا۔} یعنی اہلِ مکہ کے پاس انہیں  کی جنس سے ایک عظیم رسول یعنی انبیاء کے سردارمحمد مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے ، اہلِ مکہ نے انہیں  جھٹلایا تو اللّٰہ تعالیٰ نے اہلِ مکہ کو بھوک اور خوف کے عذاب میں  مبتلا کر دیا اور ان کا حال یہ تھا کہ وہ کفر کرنے والے تھے۔( جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۳ / ۱۰۹۸)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now