Transliteration: (Wa 'alal lazeena haadoo harramnaa ma qasasnaa 'alaika min qablu wa maa zalamanaahum wa laakin kaanoo anfusahum yazlimoon)
{وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا: اور ہم نے صرف یہودیوں پر۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے صرف یہودیوں پروہ چیزیں حرام کی تھیں جو اللّٰہ تعالیٰ نے پہلے سورۂ انعام میں آیت وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ۔۔۔الآیہ۔ (اور ہم نے یہودیوں پر ہر ناخن والا جانور حرام کردیا) میں آپ کے سامنے بیان کی ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام قرار دے کر ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی بغاوت و مَعصِیَت کا اِرتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے جس کی سزا میں وہ چیزیں اُن پر حرام ہوئیں جیسا کہ آیت فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ(تو یہودیوں کے بڑے ظلم کے سبب ہم نے وہ بعض ستھری چیزیں کہ ان کے لئے حلال تھیں ان پر حرام فرما دیں ) میں ارشاد فرمایا گیا۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۸، ۳ / ۱۴۹)
نوٹ:اس آیت کی تفسیر سورۂ نساء، آیت نمبر 160 اور سورۂ انعام، آیت نمبر146میں گزر چکی ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 118 تفسیر