قرآن - 16:127 سورہ النحل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

127
وَٱصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُكَ إِلَّا بِٱللَّهِۚ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُ فِي ضَيۡقٖ مِّمَّا يَمۡكُرُونَ

Transliteration: (Wasbir wa maa sabruka illaa billaah; wa laa tahzan 'alaihim wa laa taku fee daiqim mimmaa yamkuroon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ(127)اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ(128) || اور اے محبوب تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو۔ بیشک اللہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کی سازشوں سے دل تنگ نہ ہو ۔ بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور وہ جو نیکیاں کرنے والے ہیں ۔ || اور صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کی سازشوں سے دل تنگ نہ ہو ۔ بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور وہ جو نیکیاں کرنے والے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 127 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اصْبِرْ:اور صبر کرو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللّٰہ تعالیٰ کے راستے میں  کفار کی طرف سے آپ کوجواَ ذِیَّتیں  پہنچیں  ان پر صبر فرمائیں  اور آپ کا صبر کرنا اللّٰہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے ہے اورآپ ان مشر کین کا غم نہ کھائیں  جو آپ کو جھٹلاتے ہیں ، قرآنِ پاک کا انکار کرتے اور آپ کی نصیحتوں  سے اِعراض کرتے ہیں  اور مشرکین آپ کی طرف جو جادو گر اور کاہن ہونے کی نسبت کرتے ہیں  اور لوگوں  کو دین ِاسلام سے دور کرنے کی جو سازشیں  کرتے ہیں  آپ اس سے دل تنگ نہ ہوں  کیونکہ ہم آپ کے ناصر و مددگار ہیں ۔( تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۷ / ۶۶۶، جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ص۲۲۸، ملتقطاً)

{اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ:بیشک اللّٰہ ان لوگوں کے ساتھ ہے۔}یعنی اے انسان ! اگر تو چاہتا ہے کہ میری مدد، میرا فضل اور میری رحمت تیرے شاملِ حال ہو تو تو ان لوگوں  میں  سے ہوجا جو مجھ سے ڈرتے ہیں  اور نیکیاں  کرنے والے ہیں ۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ۳ / ۱۵۳)

حضرت ہرم بن حیان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی وصیت:

            سورہِ نحل کی آخری تین آیات انتہائی شاندار احکام پر مشتمل ہیں  ،لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ ان آیتوں  میں  بیان کئے گئے احکام پر عمل کو اپنی زندگی کا خاص وظیفہ بنا لے اور اپنے متعلقین کو بھی اس کی نصیحت کرتا رہے تاکہ وہ بھی ان پر عمل کی کوشش میں  مصروف ہو جائیں ، ہمارے بزرگان دین بھی اس کی وصیت فرمایا کرتے تھے، چنانچہ منقول ہے کہ حضرت ہرم بن حیان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے عرض کی گئی: آپ کوئی وصیت کر دیں ۔ انہوں  نے فرمایا: ’’وصیت تو مال کے بارے ہوتی ہے اور میرے پاس کوئی مال نہیں  البتہ میں  تمہیں  سورہِ نحل کی آخری آیتوں  یعنی ’’اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ‘‘ سے لے کر سورت کے آخر تک کی وصیت کرتا ہوں  (کہ ان میں  جو احکام بیان ہوئے ان پر مضبوطی سے عمل پیرا ہو جاؤ۔)( روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ۵ / ۱۰۱)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now