Transliteration: (Khalaqas samaawaati wal arda bilhaqq; Ta'aalaa 'ammaa yushrikoon)
{خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ:اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ بنایا۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور اپنے معبود ہونے پر بطورِ دلیل ان چیزوں کا ذکر فرمایا ہے کہ جنہیں پیدا کرنے پر اللّٰہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی قادر نہیں۔(مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۳، ص۵۸۹)آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت و مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے باطل اور بیکار نہیں بنایا اور وہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے میں یکتا ہے، انہیں عدم سے وجود میں لانے میں اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ ہی انہیں پیداکرنے پر کسی نے اللّٰہ تعالیٰ کی مدد کی ہے تو اللّٰہ تعالیٰ کا شریک کہا ں سے آ گیا؟ اے لوگو! تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ تمہارے شرک اور تمہارے اس دعوے کہ’’ اللّٰہ کے سوا اور بھی معبود ہیں ‘‘ سے بلند و بالا ہے اور اس کی شان اتنی بلند ہے کہ کوئی ا س کا مثل، شریک یا مددگار ہو ہی نہیں سکتا۔ (تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۳، ۷ / ۵۵۹، روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۳، ۵ / ۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 3 تفسیر