Transliteration: (Darabal laahu masalan 'abdam mammlookal laa yaqdiru 'alaa shai'inw wa marrazaqnaahu mminnaa rizqan hasanan fahuwa yunfiqu minhu sirranw wa jahra; hal yasta-woon; alhamdu lillaah; bal aksaruhum laa ya'lamoon)
{ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا:اللّٰہ نے ایک بندے کی مثال بیان فرمائی۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے دو شخصوں کی مثال بیان فرما کرشرک کا رد فرمایا ہے۔ اس مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک شخص ایسا ہے جو خود کسی کی ملکیت میں ہے اوروہ مالک نہ ہونے کی وجہ سے کسی چیز پر قادر نہیں ، جبکہ ایک شخص ایسا ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرما رکھی ہے تو وہ اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرتا ہے ،جیسے چاہتا ہے ا س میں تَصَرُّف کرتا ہے تو پہلا شخص عاجز ہے، مملوک اور غلام ہے جبکہ دوسرا شخص آزاد، مالک اور صاحبِ مال ہے اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے قدرت و اختیار بھی رکھتا ہے تو کیا یہ دونوں برابر ہوجائیں گے؟ ہر گز نہیں ، تو جب غلام اور آزاد شخص برابر نہیں ہوسکتے حالانکہ یہ دونوں اللّٰہ تعالیٰ کے بندے ہیں توخالق ،مالک اور قادر رب تعالیٰ کے ساتھ قدرت و اختیارنہ رکھنے والے بت کیسے شریک ہوسکتے ہیں اور ان کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا مثل قرار دینا کیسا بڑا ظلم اورجہل ہے۔( جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۷۵، ص۲۲۳، روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۷۵، ۵ / ۵۹-۶۰، خزائن العرفان، النحل، تحت الآیۃ: ۷۵، ص۵۱۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 75 تفسیر