قرآن - 16:99 سورہ النحل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

99
إِنَّهُۥ لَيۡسَ لَهُۥ سُلۡطَٰنٌ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ

Transliteration: (Innahoo laisa lahoo sultaanun 'alal lazeena aamanoo wa 'alaa Rabbihim yatawakkaloon)

ترجمہ: کنزالایمان - فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ(98)اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(99)اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ(100) || تو جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے۔ بیشک اس کا کوئی قابو ان پر نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ اس کا قابو تو انہیں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور اسے شریک ٹھہراتے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ بیشک اسے ان لوگوں پر کوئی قابو نہیں جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ اس کا قابو تو انہیں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور وہ جواس کو شریک ٹھہراتے ہیں ۔ || تو جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ بیشک اسے ان لوگوں پر کوئی قابو نہیں جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ اس کا قابو تو انہیں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور وہ جواس کو شریک ٹھہراتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 99 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ:تو جب تم قرآن پڑھنے لگو۔} یعنی قرآنِ کریم کی تلاوت شروع کرتے وقت اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمْ پڑھو۔ یہ مستحب ہے۔( جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۹۷، ۳ / ۱۰۹۰)

نوٹ:یاد رہے کہ تَعَوُّذْ کے مسائل سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں  گزر چکے ہیں ۔

{اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ:بیشک اسے کوئی قابو نہیں ۔} یعنی شیطان کو ان لوگوں  پر تَسَلُّط حاصل نہیں  جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں  لہٰذا اللّٰہ تعالیٰ پر توکل کرنے والے مومن شیطانی وسوسے قبول نہیں  کرتے یعنی اگرچہ شیطان کوشش بھی کرے تو اسے کامیابی نہیں  ملتی ۔

{اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ:اس کا قابو تو انہیں  پر ہے۔} یعنی شیطان کو ان لوگوں  پر تسلط حاصل ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں  اور اس کے وسوسوں  کی پیروی کرتے ہیں  اور وہ شیطان کے وسوسوں  کی وجہ سے مختلف چیزوں  کو اللّٰہ تعالیٰ کا شریک بنا لیتے ہیں ۔( مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ص۶۰۸، ملخصاً)اس سے معلوم ہوا کہ شیطان کوئی زور زبردستی نہیں  کرتا بلکہ جو خود ہی اس کی طرف مائل ہوتا ہے اور اسے دوست بناتا ہے وہی اس کا اثر قبول کرتا ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now