قرآن - 27:54 سورہ النمل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

54
وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ وَأَنتُمۡ تُبۡصِرُونَ

Transliteration: (Wa lootan iz qaala liqawmiheee ataatoonal faa hishata wa antum tubsiroon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ(54) || اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا بے حیائی پر آتے ہو اور تم سوجھ رہے ہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور لوط کو یاد کروجب اس نے اپنی قوم سے فرمایا: کیا تم بے حیائی کا کام کرتے ہوحالانکہ تم دیکھ رہے ہو۔ || اور لوط کو یاد کروجب اس نے اپنی قوم سے فرمایا: کیا تم بے حیائی کا کام کرتے ہوحالانکہ تم دیکھ رہے ہو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النمل آیت 54 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لُوْطًا: اور لوط کو۔} یہاں  سے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ آیت میں  ذکر کئے گئے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قول کا ایک معنی یہ ہے کہ کیا تم بدکاری پر اتر آئے ہو حالانکہ تم اس فعل کی قباحت جانتے ہو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ کیا تم بے حیائی پر اتر آئے ہو اور تم ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہو کراعلانیہ بدفعلی کا اِرتکاب کرتے ہو۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ تم اپنے سے پہلے نافرمانی کرنے والوں  کی تباہی اور اُن کے عذاب کے آثار دیکھتے ہو پھر بھی اس بدعملی میں  مبتلا ہو۔( مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۵۴، ص۸۵۱، ملخصاً)

          نوٹ:حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے کی بعض تفصیلات سورۂ اَعراف،آیت نمبر 80تا84 اور سورۂ ہود،آیت نمبر77تا83 میں  گزر چکی ہیں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now