قرآن - 27:66 سورہ النمل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

66
بَلِ ٱدَّـٰرَكَ عِلۡمُهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِۚ بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ مِّنۡهَاۖ بَلۡ هُم مِّنۡهَا عَمُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ ﱄ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا -بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ(66) || کیا ان کے علم کا سلسلہ آخرت کے جاننے تک پہونچ گیا کوئی نہیں وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان کیا کافروں کا علم آخرت کے بارے میں مکمل ہوچکا ہے ؟ بلکہ وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں ۔ || کیا کافروں کا علم آخرت کے بارے میں مکمل ہوچکا ہے ؟ بلکہ وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النمل آیت 66 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ: کیا کافروں کا علم آخرت کے بارے میں  مکمل ہوچکا ہے؟} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا کافروں کا علم آخرت کے بارے میں  مکمل ہوچکا اور انہیں  قیامت قائم ہونے کا علم ویقین حاصل ہوگیا جو وہ اس کا وقت دریافت کرتے ہیں ؟ حالانکہ ایساہر گز نہیں  بلکہ وہ تو اس کی طرف سے شک میں  ہیں ، انہیں  ابھی تک قیامت کے آنے کا یقین نہیں  ہے بلکہ وہ اس سے جاہل ہیں  اور بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے قیامت کے دلائل کو سمجھ نہیں  سکتے۔( جلالین، النمل، تحت الآیۃ: ۶۶، ص۳۲۳، بیضاوی، النمل،تحت الآیۃ: ۶۶، ۴ / ۲۷۵، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now