Transliteration: (Wa laa tahinoo fibtighaaa'il qawmi in takoonoo ta'lamoona fa innahum ya'lamoona kamaa ta'lamoona wa tarjoona minal laahi maa laa yarjoon; wa kaanal laahu 'Aleeman Hakeemaa)
{وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ: اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو ۔} اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ احدکی جنگ سے جب ابو سفیان اور ان کے ساتھی واپس ہوئے توسرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے جو صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اُحد میں حاضر ہوئے تھے انہیں مشرکین کے تَعاقُب میں جانے کا حکم دیا، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم زخمی تھے، انہوں نے اپنے زخموں کی شکایت کی اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۱ / ۴۲۶)
اور فرمایا گیا کہ اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو انہیں بھی پہنچی ہے نیز تمہیں تو تکلیفیں اٹھانے پراللہ عَزَّوَجَلَّ سے ثواب کی امید ہے جبکہ کافروں کو ایسی کوئی امید نہیں تو تم پیچھا کرنے میں سستی نہ کرو۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 104 تفسیر