Transliteration: (Laisa bi amaaniyyikum wa laaa amaaniyyi Ahlil Kitaab; mai ya'mal sooo'ai yujza bihee wa laa yajid lahoo min doonil laahi waliyanw wa laa naseeraa)
{مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖ: جو کوئی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔} یہاں لوگوں سے فرمایا گیا کہ نجات کا دارومدار نہ توتمہاری جھوٹی امیدیں ہیں کہ اے مشرکو! تم نے سوچ رکھا ہے کہ بت تمہیں نفع پہنچائیں گے اور نہ ہی نجات اہلِ کتاب کی جھوٹی امیدوں پر ہے جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ، ہمیں آگ چند روز سے زیادہ نہ جلائے گی یہود و نصاریٰ کا یہ خیال بھی مشرکین کی طرح باطل ہے بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قانون یہ ہے کہ جو کوئی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گاخواہ مشرکین میں سے ہو یا یہودو نصاریٰ میں سے اور کافر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوانہ کوئی اپنا حمایتی پائے گااور نہ مددگار، البتہ جو مرد یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مسلمان بھی ہو تو یہی با عمل مسلمان لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور یہ اپنے عمل کی جس جزا کے مستحق ہیں اس میں سے تِل کے برابر بھی کم کر کے ان پر ظلم نہیں کیاجائے گا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 123 تفسیر