قرآن - 4:161 سورہ النساء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

161
وَأَخۡذِهِمُ ٱلرِّبَوٰاْ وَقَدۡ نُهُواْ عَنۡهُ وَأَكۡلِهِمۡ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِۚ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ مِنۡهُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا

Transliteration: (Wa akhzihimur ribaa wa qad nuhoo 'anhu wa aklihim amwaalan naasi bilbaatil; wa a'tadnaa lilkaafireena minhum 'azaaban aleema)

ترجمہ: کنزالایمان - وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِؕ-وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا(161) || اور اس لئے کہ وہ سود لیتے حالانکہ وہ اس سے منع کیے گئے تھے اور لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے اور ان میں جو کافر ہوئے ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور اس لئے (حرام کیں ) کہ وہ سود لیتے حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور وہ باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھا جاتے تھے اور ان میں سے کافروں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ || اور اس لئے (حرام کیں ) کہ وہ سود لیتے حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور وہ باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھا جاتے تھے اور ان میں سے کافروں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 161 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا:اور ان کے سود لینے کی وجہ سے۔} یہودیوں میں اعتقادی خرابیوں کے ساتھ عملی برائیاں بھی موجود تھیں چنانچہ سود کھانا اور رشوت لینا ان میں عام تھا۔ فیصلہ کرنے میں رشوت لیتے حتّٰی کہ رشوت کی خاطر شرعی احکام بھی بدل دیتے۔

سود اور رشوت کی مذمت:

             اس آیت سے سود کی حرمت اور رشوت کی قباحت و خباثت بھی معلوم ہوئی۔ سود لینا شدید حرام ہے۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک سود سترگناہوں کا مجموعہ ہے ،ان میں سب سے چھوٹا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، ۳ / ۷۲، الحدیث: ۲۲۷۴)

            سود سے متعلق مزید کلام سورۂ بقرہ آیت نمبر 275تا278 اور سورۂ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 130کے تحت گزر چکا ہے، اور رشوت کے بارے میں حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ’’سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے رشوت لینے والے، دینے والے اور اُن کے مابین لین دین میں مدد کرنے والے پر لعنت فرمائی۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، ومن حدیث ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ، ۸ / ۳۲۷، الحدیث: ۲۲۴۶۲)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now