Transliteration: (Yureedul laahu liyubai yina lakum wa yahdiyakum sunanal lazeena min qablikum wa yatooba 'alaikum; wallaahu 'Aleemun Hakeem)
{وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ:اور تمہیں تم سے پہلے لوگوں کے طریقے بتادے۔} اس سے مراد یہ ہے کہ ما قبل آیات میں تمہارے لئے جو عورتیں حرام یا حلال ہیں بیان ہوئیں یہی عورتیں پچھلی شریعتوں میں بھی اسی طرح حرام و حلال تھیں۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ تمہارے لئے جس کام میں بہتری ہے اللہ تعالیٰ وہ بیان کر دے جیسا کہ پہلے لوگوں سے بیان کیا تھا۔ (جمل، النساء، تحت الآیۃ: ۲۶، ۲ / ۴۱، خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۲۶، ۱ / ۳۶۹، ملتقطاً) اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جو شرعی احکام قرآن یا حدیث میں تردید کے بغیر منقول ہوئے وہ ہمارے لئے بھی لائق عمل ہیں اور جوممانعت کے ساتھ نقل ہوئے ان پر ہمیں عمل جائز نہیں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 26 تفسیر