Transliteration: (Wa likullin ja'alnaa ma waaliya mimmaa tarakal waalidaani wal aqraboon; wallazeena 'aqadat aimaanukum fa aatoohum naseebahum; innal laaha kaana 'alaa kulli shai'in Shaheedaa)
{وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ:اور جن سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے۔} اس سے عَقْدِمُوَالات مراد ہے اس کی صورت یہ ہے کہ ایسا شخص جس کا نسب مجہول ہو وہ دوسرے سے یہ کہے کہ تو میرا مولیٰ ہے میں مرجاؤں تو تو میرا وارث ہو گا اور میں کوئی جرم کروں تو تجھے دِیَت دینی ہوگی۔ دوسرا کہے: میں نے قبول کیا۔ اِس صورت میں یہ عقد صحیح ہوجاتا ہے اور قبول کرنے والا وارث بن جاتا ہے اور دِیَت بھی اُس پر آجاتی ہے اور دوسرا بھی اِسی کی طرح سے مجہولُ النَّسب ہو اور ایسا ہی کہے اور یہ بھی قبول کرلے تو اُن میں سے ہر ایک دوسرے کا وارث اور اُس کی دِیَت کا ذمہ دار ہوگا۔ یہ عقد ثابت ہے اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اِس کے قائل ہیں۔(مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۳۳، ص۲۲۵)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 33 تفسیر