Transliteration: (Alam tara ilal lazeena ootoo naseebam minal Kitaabi yashtaroonad dalaalata wa yureedoona an tadillus sabeel)
{اَلَمْ تَرَ: کیا تم نے نہ دیکھا۔} یہاں یہودیوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی تورات ملی جس سے اُنہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی نبوت کوتو پہچانا لیکن اِمامُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے متعلق جو کچھ تورات میں بیان کیا تھا اس حصّہ سے محروم رہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کے منکر ہوگئے۔ اس لئے فرمایا کہ انہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ۔ گویا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب رکھنے کے باوجود ہدایت کی بجائے گمراہی کے پیروکار ہوئے اور اس کے ساتھ اے مسلمانو! تمہیں بھی گمراہ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ہدایت کا دارومدار ہی حضور سید ِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کامل ایمان لانے پر ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 44 تفسیر