Transliteration: (Wabtalul yataamaa hattaaa izaa balaghun nikaaha fa in aanastum minhum rushdan fad fa'ooo ilaihim amwaalahum wa laa ta' kuloohaaa israafanw wa bidaaran ai yakbaroo; wa man kaana ghaniyyan falyasta' fif wa man kaana faqeeran fal ya' kul bilma'roof; fa izaa dafa'tum ilaihim amwaalahum fa ash-hidoo 'alaihim; wa kafaa billaahi Haseeba)
{وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى: اور یتیموں کو آزماتے رہو۔}اس آیتِ مبارکہ میں یتیموں کے حوالے سے بہت واضح احکام دئیے ہیں ، چنانچہ فرمایا کہ جن یتیموں کا مال تمہارے پاس ہو ان کی سمجھداری کو آزماتے رہو جس کی ایک صورت یہ ہے کہ ان کا مال دے کر وقتاً فوقتاً انہیں دیکھتے رہو کہ کیسے خرچ کرتے ہیں۔ یوں انہیں آزماتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں یعنی بالغ ہوجائیں تو اگر تم ان میں سمجھداری کے آثار دیکھو کہ وہ مالی معاملات اچھے طریقے سے کرلیتے ہیں تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔ یہاں تک ان کے بارے میں حکم دینے کے بعد اب سرپرستوں کو بطورِ خاص چند ہدایات دی ہیں چنانچہ فرمایا کہ یتیموں کے مال کو فضول خرچی سے استعمال نہ کرو اور ان کامال جلدی جلدی نہ کھاؤ اس ڈر سے کہ جب وہ بڑے ہو جائیں گے تو چونکہ تمہیں اُن کے مال واپس کرنا پڑیں گے لہٰذا جتنا زیادہ ہوسکے ان کا مال کھا جاؤ، یہ حرام ہے۔ مزید ہدایت یہ ہے کہ یتیم کا سرپرست اگر خودمالدار ہویعنی اسے یتیم کا مال استعمال کرنے کی حاجت نہیں تو وہ اُس کا مال استعمال کرنے سے بچے اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھاسکتا ہے یعنی جتنی معمولی سی ضرورت ہو ۔ اس میں کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کم سے کم کھائے۔ (جَمَل، النساء، تحت الآیۃ: ۶، ۲ / ۱۳)
آیت کے آخر میں مزید پہلے والے حکم کے بارے میں فرمایا کہ جب تم یتیموں کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو اِس بات پر گواہ بنالو تاکہ بعد میں کوئی جھگڑا نہ ہو۔ یہ حکم مستحب ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 6 تفسیر