قرآن - 4:61 سورہ النساء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

61
وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ رَأَيۡتَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودٗا

Transliteration: (Wa izaa qeela lahum ta'aalaw ilaa maaa anzalallaahu wa ilar Rasooli ra aital munaafiqeena yasuddoona 'anka sudoodaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا(61)فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ ﳓ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا(62)اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْۗ-فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا(63) || اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں۔ کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتادپڑے بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا پھر اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا ۔ ان کے دلوں کی تو بات اللہ جانتا ہے تو تم ان سے چشم پوشی کرو اور انہیں سمجھا ؤ اور ان کے معاملہ میں ان سے رسا بات کہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں ۔ تو کیسی (حالت) ہوگی جب ان پر ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت آپڑے پھر اے حبیب! قسمیں کھاتے ہوئے تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو صرف بھلائی اور اتفاق کرانا تھا۔ ان کے دلوں کی بات تواللہ جانتا ہے پس تم ان سے چشم پوشی کرتے رہو اور انہیں سمجھاتے رہو اور ان کے بارے میں ان سے پُراثرکلام کرتے رہو۔ || اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں ۔ تو کیسی (حالت) ہوگی جب ان پر ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت آپڑے پھر اے حبیب! قسمیں کھاتے ہوئے تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو صرف بھلائی اور اتفاق کرانا تھا۔ ان کے دلوں کی بات تواللہ جانتا ہے پس تم ان سے چشم پوشی کرتے رہو اور انہیں سمجھاتے رہو اور ان کے بارے میں ان سے پُراثرکلام کرتے رہو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 61 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ: تو کیسی ہوگی جب ان پر ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت آ پڑے} یہاں منافقوں کے بارے میں فرمایا کہ ویسے تو اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ سے منہ پھیرتے ہیں لیکن جب ان پر ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت آ پڑے جیسے بِشر منافق پر آپڑی تو کیا پھر بھییہ آپ سے اعراض کریں گے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس وقت اپنی کرتوتوں کی تاویلیں کرنے کے لئے قسمیں کھاتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو صرف بھلائی اور دوفریقوں میں اتفاق کرانا تھا، اس لئے ہمارا آدمی یہودیوں کے پاس فیصلے کیلئے جانے لگا تھا ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now