Transliteration: (Wa yaqooloona taa'antun fa izaa barazoo min 'indika baiyata taaa'ifatum minhum ghairal lazee taqoolu wallaahu yaktubu maa yubaiyitoona fa a'rid 'anhum wa tawakkal 'alal laah; wa kafaa billaahi Wakeelaa)
{وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ: اور کہتے ہیں :ہم نے فرمانبرداری کی۔} یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ،جو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے کہتے تھے کہ ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کی اطاعت ہم پر فرض ہے لیکن وہاں سے اٹھ کر اس کے خلاف کرتے تھے۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۸۱، ۱ / ۴۰۵)
ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کے سب منصوبے ان کے نامۂ اعمال میں لکھے جا رہے ہیں اور اِنہیں اُس کا بدلہ بھی ملے گا۔ لیکن چونکہ یہ ظاہراً کلمہ پڑھتے تھے اور ظاہری طور پر کفر نہیں کرتے تھے اس لئے ان کے بارے میں کہا گیا کہ ان سے چشم پوشی کرو یعنی ان کے کافروں کی طرح دنیوی احکام نہیں ہیں۔ ہاں چونکہ ان کی طرف سے خطرہ پایا جاتا ہے تو اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ رکھو، ان کی طرف سے اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو کفایت کرے گا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 81 تفسیر