قرآن - 13:1 سورہ الرعد ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

1
الٓمٓرۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِۗ وَٱلَّذِيٓ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَ ٱلۡحَقُّ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤۡمِنُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - الٓـمّٓرٰ- تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِؕ-وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ(1) || یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے مگر اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ’’المر‘‘، یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ || ’’المر‘‘، یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الرعد آیت 1 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{الٓـمّٓرٰ:} یہ حروفِ مُقَطّعات میں  سے ایک حرف ہے، اس کی مراد اللّٰہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

{وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ:اور وہ جو تمہاری طرف نازل کیا گیا۔} مشرکینِ مکہ کہتے تھے کہ یہ کلام محمد مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاہے اور انہوں  نے خود بنایا ہے، اس آیت میں  ان کا رد کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ قرآن جو رسولُ اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے نازل کیا گیا حق ہے، اس میں  شک کی کوئی گنجائش نہیں  لیکن اکثر اہلِ مکہ اس بات پر ایمان نہیں  لاتے کہ قرآن اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۵۱، جلالین، الرعد، تحت الآیۃ: ۱، ص۲۰۰، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now