قرآن - 30:18 سورہ الروم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

18
وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَعَشِيّٗا وَحِينَ تُظۡهِرُونَ

Transliteration: (Wa lahul hamdu fis samaawaati wal ardi wa 'ashiyyanw wa heena tuzhiroon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ(18) || اور اُسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور کچھ دن رہے اور جب تمہیں دوپہر ہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان اوراسی کیلئے تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور اس وقت جب دن کا کچھ حصہ باقی ہو اور جب تم دوپہر کرو۔ || اوراسی کیلئے تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور اس وقت جب دن کا کچھ حصہ باقی ہو اور جب تم دوپہر کرو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الروم آیت 18 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ: اور جب دن کا کچھ حصہ باقی ہو اور جب تم دوپہر کرو۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ جب کچھ دن باقی ہو اور جب تم دوپہر کرو تو ا س وقت تسبیح کرو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جب کچھ دن باقی ہو اور جب تم دوپہر کرو تو ا س وقت نماز ادا کرو۔ ا س میں  نمازِ عصر اور نمازِ ظہر کا بیان ہوا۔

 نماز کے لئے یہ پانچ اوقات مقرر فرمائے جانے کی حکمت:

یاد رہے کہ نماز کے لئے یہ پانچ اَوقات ا س لئے مقرر فرمائے گئے کہ افضل اعمال وہ ہیں  جو ہمیشہ ہوں  اور انسان یہ قدرت نہیں  رکھتا کہ اپنے تمام اوقات نماز میں  صَرف کرے کیونکہ اس کے ساتھ کھانے پینے وغیرہ کے حوائج و ضرورِیّات ہیں  تو اللہ تعالیٰ نے بندوں  پر عبادت میں  تخفیف فرمائی اور دن کے شروع،درمیان اور آخر میں  جبکہ رات کے شروع اور آخر میں  نمازیں  مقرر کیں  تاکہ ان اوقات کے اندر نماز میں  مشغول رہنا دائمی عبادت کے حکم میں  ہو۔(روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۱۸، ۷ / ۱۶، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۰۴، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۴۶۰، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now