Transliteration: (Minal lazeena farraqoo deenahum wa kaanoo shiya'an kullu hizbim bimaa ladaihim farihoon)
{مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ: ان لوگوں میں سے (نہ ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔} یعنی ان مشرک لوگوں میں سے نہ ہونا جنہوں نے معبود کے بارے میں اختلاف کرکے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیااور خود گروہ گروہ بن گئے۔ان میں سے ہر گروہ اپنے مذہب پر خوش ہے اور اپنے باطل کو حق گمان کرتا ہے۔( جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۳۴۳، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۹۰۸، ملتقطاً)
یاد رہے کہ اس آیت کا اسلامی فُقہاء کے اختلاف سے کچھ تعلق نہیں ۔ حنفی ،شافعی ،مالکی اور حنبلی ہونا دین میں اختلاف نہیں بلکہ فروعی مسائل میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف بھی نَفسانِیّت کی وجہ سے نہیں بلکہ تحقیق کی بنا پر ہے ۔ البتہ اس آیت میں گمراہ فرقے ضرور داخل ہیں خواہ وہ پرانے زمانے کے ہوں یا نئے زمانے کے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الروم آیت 32 تفسیر