قرآن - 37:113 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

113
وَبَٰرَكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلَىٰٓ إِسۡحَٰقَۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٞ وَظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ مُبِينٞ

Transliteration: (Wa baaraknaa 'alaihi wa 'alaaa Ishaaq; wa min zurriyya tihimaa muhsinunw wa zaalimul linafsihee mubeen (section 3))

ترجمہ: کنزالایمان - وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112)وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ-وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ(113) || اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں ۔ اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحق پر اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والا اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔ اور ہم نے اس پر اور اسحاق پربرکت اتاری اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والاہے اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والاہے۔ || اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔ اور ہم نے اس پر اور اسحاق پربرکت اتاری اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والاہے اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والاہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 113 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ: اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی۔} ذبح کا واقعہ بیان کرنے کے بعدحضرت اسحق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خوشخبری دینااس بات کی دلیل ہے کہ ذبیح حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ۔

{وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ: اور ہم نے اس پر اور اسحاق پربرکت اتاری۔} یعنی ہم نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر دینی اور دُنْیَوی ہر طرح کی برکت اتاری اور ظاہری برکت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں  کثرت کی اور حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نسل سے حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک بہت سے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مبعوث کئے۔(مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ص۱۰۰۸)

{وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ: اور ان کی اولاد میں  کوئی اچھا کام کرنے والاہے۔} یعنی ان دونوں  کی اولاد میں  سے کوئی ایمان لا کر اچھا کام کرنے والا ہے اور کوئی کفر کر کے اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والاہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی باپ کے بکثرت فضائل والا ہونے سے اولاد کا بھی ویسا ہی ہونا لازم نہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کی شانیں  ہیں  کہ کبھی نیک سے نیک پیدا کرتا ہے کبھی بد سے بد اور کبھی بد سے نیک ،تاکہ نہ اولاد کا بدہونا آباء کے لئے عیب ہو اورنہ آباء کی بَدی اولاد کے لئے باعث ِعار ہو ۔( مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ص۱۰۰۸، خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۴ / ۲۴، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now