قرآن - 37:138 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

138
وَبِٱلَّيۡلِۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ

Transliteration: (Wa billail; afalaa ta'qiloon (section 4))

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ(137)وَ بِالَّیْلِؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(138) || او ربے شک تم ان پر گزرتے ہو صبح کو۔ اور رات میں تو کیا تمہیں عقل نہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور (اے لوگو!) بیشک تم صبح کے وقت ان کے پاس سے گزرتے ہو۔ اور رات کے وقت (بھی ان بستیوں سے گزرتے ہو)۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟ || اور (اے لوگو!) بیشک تم صبح کے وقت ان کے پاس سے گزرتے ہو۔ اور رات کے وقت (بھی ان بستیوں سے گزرتے ہو)۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 138 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اِنَّكُمْ: او ربیشک تم۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں کفارِ مکہ سے فرمایا گیا کہ اے کفارِ مکہ!تم ملک ِشام کی طرف اپنے کاروباری سفروں کے دوران صبح و شام ان بستیو ں سے گزرتے ہو اور ان کی ہلاکت و بربادی کے آثار کا تم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں کہ ان کی اجڑی ہوئی بستیوں سے عبرت حاصل کرو اور ا س بات سے ڈرو کہ جیسا عذاب اہلِ سدوم پر نازل ہوا ویسا تم پر بھی نازل ہو سکتا ہے کیونکہ جو رب تعالیٰ کفر اور تکذیب کی وجہ سے اہلِ سدوم کو ہلاک کرنے پر قادرہے تو اے کفارِمکہ! وہ تمہیں بھی ہلاک کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔( روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۷-۱۳۸، ۷ / ۴۸۵)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now