Transliteration: (Wa billail; afalaa ta'qiloon (section 4))
{وَ اِنَّكُمْ: او ربیشک تم۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں کفارِ مکہ سے فرمایا گیا کہ اے
کفارِ مکہ!تم ملک ِشام کی طرف اپنے کاروباری سفروں کے دوران صبح و شام ان بستیو ں سے
گزرتے ہو اور ان کی ہلاکت و بربادی کے آثار کا تم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہو
تو کیا تمہیں عقل نہیں کہ ان کی اجڑی ہوئی بستیوں سے عبرت حاصل کرو اور ا س بات سے
ڈرو کہ جیسا عذاب اہلِ سدوم پر نازل ہوا ویسا تم پر بھی نازل ہو سکتا ہے کیونکہ جو
رب تعالیٰ کفر اور تکذیب کی وجہ سے اہلِ سدوم کو ہلاک کرنے پر قادرہے تو اے
کفارِمکہ! وہ تمہیں بھی ہلاک کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔( روح
البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۷-۱۳۸، ۷ / ۴۸۵)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 138 تفسیر