Transliteration: (Wa innaa lanah nul musabbihoon)
{وَ اِنَّا لَنَحْنُ
الصَّآفُّوْنَ:اور بیشک ہم (حکم
کے انتظار میں )صف باندھے ہوئے ہیں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ
ہے کہ فرشتے کہتے ہیں: بیشک ہم اطاعت کے مقامات اور خدمت کی جگہوں میں پر
پھیلائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے
منتظر ہیں ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ جس طرح لوگ زمین میں صفیں باند ھ کر
نماز پڑھتے ہیں اسی طرح ہم (آسمان میں) صفیں باندھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہیں ۔تیسری تفسیر یہ
ہے کہ ہم عرش کے ارد گرد اللہ تعالیٰ کے حکم کے انتظار
میں صفیں باندھے ہوئے ہیں ۔( ابو سعود ، الصافات ، تحت
الآیۃ : ۱۶۵ ، ۴ / ۴۲۴ ، خازن ، و الصافات ، تحت الآیۃ : ۱۶۵، ۴ / ۲۸،
روح المعانی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۶۵، ۱۲ / ۲۰۵، ملتقطاً)
{وَ اِنَّا لَنَحْنُ
الْمُسَبِّحُوْنَ:
اور بیشک ہم (اس کی) تسبیح کرنے والے ہیں ۔} یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے والے ہیں کہ
وہ ہر نقص و عیب سے پاک ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 166 تفسیر