قرآن - 37:170 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

170
فَكَفَرُواْ بِهِۦۖ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَ(167)لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ(168)لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ(169)فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ(170) || اور بے شک وہ کہتے تھے ۔ اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت ہوتی۔ تو ضرور ہم اللہ کے چُنے بندے ہوتے۔ تو اس کے منکر ہوئے تو عنقریب جان لیں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور بیشک کافرکہتے تھے۔ اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت ہوتی۔ تو ضرور ہم اللہ کے چُنے ہوئے بندے ہوتے۔ تو اس کے منکر ہوئے تو عنقریب انہیں پتہ چل جائے گا۔ || اور بیشک کافرکہتے تھے۔ اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت ہوتی۔ تو ضرور ہم اللہ کے چُنے ہوئے بندے ہوتے۔ تو اس کے منکر ہوئے تو عنقریب انہیں پتہ چل جائے گا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 170 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَ: اور بیشک وہ کہتے تھے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری سے پہلے کہا کرتے تھے کہ اگر ہمیں  بھی پہلے لوگوں  پر نازل ہونے والی کتابوں  تورات اور انجیل کی طرح کوئی کتاب ملتی تو ضرور ہم اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے ہوتے ،ہم اس کی اطاعت کرتے اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت بجالاتے اور جس طرح انہوں  نے جھٹلایا اس طرح ہم نہ جھٹلاتے اور جس طرح انہوں  نے مخالفت کی اس طرح ہم مخالفت نہ کرتے،پھر جب تمام کتابوں  سے افضل و اشرف اور اپنی مثل لانے سے عاجز کر دینے والی کتاب انہیں  ملی یعنی قرآن مجید نازل ہوا تو یہی لوگ اس کے منکر ہوگئے، پس عنقریب یہ لوگ اپنے کفر کا انجام جان لیں  گے۔ (مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۶۷-۱۷۰، ص۱۰۱۲، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now