{اِنَّكُمْ: بیشک تم۔} اس آیت اور اس کے بعدوالی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جن کافروں نے تاجدار ِرسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف شاعری اور جنون کی نسبت کی ،ان سے فرمایا گیا کہ بیشک تم ضرور آخرت میں دردناک عذاب چکھنے والے ہو اور تم جو دنیا میں شرک اور تکذیب کر آئے ہو تمہیں اسی کا بدلہ دیا جائے گا۔( تفسیر طبری، الصافات، تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹، ۱۰ / ۴۸۳، خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹،۴ / ۱۷، ملتقطاً)
{اِلَّا: مگر۔} اس آیت میں مخلص بندوں کا عذاب کے حکم سے اِستثناء کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ البتہ جو اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے یعنی ایمان اوراخلاص والے بندے ہیں وہ درد ناک عذاب نہیں چکھیں گے اور ان کے حساب میں سوال وکلام نہ ہو گا بلکہ اگر ان سے کوئی خطا سرزد ہوئی ہو گی تو ا س سے در گزر کر دیا جائے گا اور انہیں ایک نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو گنا یا اس سے جتنا زیادہ اللہ تعالیٰ چاہے دیا جائے گا۔( ابن کثیر، الصافات، تحت الآیۃ: ۴۰، ۷ / ۱۰)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 38 تفسیر