قرآن - 37:45 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

45
يُطَافُ عَلَيۡهِم بِكَأۡسٖ مِّن مَّعِينِۭ

Transliteration: (Yutaafu 'alaihim bikaasim mim ma'een)

ترجمہ: کنزالایمان - یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ(45)بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ(46)لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ(47) || ان پر دورہ ہوگا نگاہ کے سامنے بہتی شراب کے جام کا۔ سفید رنگ پینے والوں کے لیے لذت۔ نہ اس میں خُمار ہے اور نہ اس سے ان کا سر پھرے۔ ترجمہ: کنزالعرفان خالص شراب کے جام کے ان پر دَور ہوں گے۔ سفید رنگ کی شراب ہوگی، پینے والوں کے لیے لذت بخش ہوگی۔ نہ اس میں عقل کی خرابی ہوگی اور نہ وہ اس سے نشے میں لائے جائیں گے۔ || خالص شراب کے جام کے ان پر دَور ہوں گے۔ سفید رنگ کی شراب ہوگی، پینے والوں کے لیے لذت بخش ہوگی۔ نہ اس میں عقل کی خرابی ہوگی اور نہ وہ اس سے نشے میں لائے جائیں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 45 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{یُطَافُ عَلَیْهِمْ: ان پر دَور ہوں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں  ا یمان والے مخلص بندوں  کو جنت میں  ملنے والی شراب اور ا س کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں  ،چنانچہ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جنتی شراب کی پاکیزہ نہریں  ان کی نگاہوں کے سامنے جاری ہوں  گی اور وہ خالص شراب ہوگی جس کے جام کے ان پر دَور ہوں  گے، اس شراب کے اوصاف یہ ہیں  ۔(1)دودھ سے بھی زیادہ سفید رنگ کی شراب ہوگی۔(2)پینے والوں  کے لیے لذت بخش ہوگی، جبکہ دنیا کی شراب میں  یہ وصف نہیں  بلکہ وہ بدبودار اور بدذائقہ ہوتی ہے اور پینے والا اس کو پیتے وقت منہ بگاڑ تا رہتا ہے۔(3) جنتی شراب میں  خُمار نہیں  ہے جس سے عقل میں  خَلَل آئے۔(4) جنتی اس شراب سے نشے میں  نہیں آئیں  گے۔ جبکہ دنیا کی شراب میں  یہ اوصاف نہیں  بلکہ اس میں  بہت سے فسادات اور عیب ہیں  ،اس سے پیٹ میں  بھی درد ہوتا ہے اور سر میں  بھی، پیشاب میں  بھی تکلیف ہوجاتی ہے، طبیعت متلانے لگتی ہے، قے آتی ہے، سر چکراتا ہے اور عقل ٹھکانے نہیں  رہتی۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۴۵-۴۷، ۴ / ۱۷-۱۸، جلالین، الصافات، تحت الآیۃ: ۴۵-۴۷، ص۳۷۵، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now