قرآن - 37:68 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

68
ثُمَّ إِنَّ مَرۡجِعَهُمۡ لَإِلَى ٱلۡجَحِيمِ

Transliteration: (Summa inna marji'ahum la ilal Jaheem)

ترجمہ: کنزالایمان - فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِــٴُـوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَﭤ(66)ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍ(67)ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ(68) || پھر بے شک وہ اس میں سے کھائیں گے پھر اس سے پیٹ بھریں گے۔ پھر بے شک ان کے لیےاس پر کھولتے پانی کی ملونی ہے۔ پھر ان کی بازگشت ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان پھر بیشک وہ اس میں سے کھائیں گے پھر اس سے پیٹ بھریں گے۔ پھر بیشک ان کے لیے اس پر کھولتے پانی کی ملاوٹ ہے۔ پھر بیشک ان کا لوٹنا ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے۔ || پھر بیشک وہ اس میں سے کھائیں گے پھر اس سے پیٹ بھریں گے۔ پھر بیشک ان کے لیے اس پر کھولتے پانی کی ملاوٹ ہے۔ پھر بیشک ان کا لوٹنا ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 68 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا: پھر بیشک وہ اس میں  سے کھائیں  گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں  جہنم میں  کفار کے کھانے اور مشروب کا بیان کیا گیا ہے ۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار بھوک کی شدت سے مجبور ہو کر جہنمی تھوہڑ میں  سے کھائیں  گے ، یہاں  تک کہ اس سے ان کے پیٹ بھر جائیں  گے، وہ تھوہڑجلتا ہوگا اور ان کے پیٹوں  کو جلائے گا، اس کی سوزش سے پیاس کا غلبہ ہوگا اور وہ ایک عرصے تک تو پیاس کی تکلیف میں  رکھے جائیں گے۔ پھر جب پینے کو دیا جائے گا تو گرم کھولتا پانی، اس کی گرمی اور سوزش، اُس تھوہڑ کی گرمی اور جلن سے مل کر تکلیف و بے چینی اوربڑھادے گی۔(مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۶۶-۶۷، ص۱۰۰۳)

{ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ: پھر بیشک ان کا لوٹنا۔} ارشاد فرمایا کہ پھر بیشک ان کا لوٹنا ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے کیونکہ زقوم کھلانے اور گرم پانی پلانے کے لئے ان کو اپنے دَرکات یعنی عذاب کے مقام سے دوسرے درکات میں  لے جایا جائے گا اس کے بعد پھر اپنے درکات کی طرف لوٹائے جائیں  گے۔(مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۶۸، ص۱۰۰۳)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now