Transliteration: (Wa laqad arsalnaa feehim munzireen)
{وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ: اور بیشک ان سے پہلے گمراہ ہوئے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک کفارِ قریش سے پہلے بہت سے اگلے لوگ اسی وجہ سے گمراہ ہوئے کہ اُنہوں نے اپنے باپ دادا کی غلط راہ نہ چھوڑی اور حجت و دلیل سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایا،اور بیشک ہم نے ان میں انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھیجے جنہوں نے ان کو گمراہی اور بدعملی کے برے انجام کا خوف دلایا لیکن انہوں نے اپنے جاہل باپ داداؤں کی پیروی نہ چھوڑی اورانبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کہنا نہ مانا جس کی وجہ سے ان ڈرائے جانے والوں کا انجام یہ ہوا کہ وہ عذاب سے ہلاک کر دئیے گئے جبکہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے ایمانداربندے عافیت میں رہے اور انہوں نے اپنے اخلاص کے سبب عذاب سے نجات پائی۔ (مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۷۱-۷۴، ص۱۰۰۳، خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۷۱-۷۴، ۴ / ۱۹، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 72 تفسیر