قرآن - 37:88 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

88
فَنَظَرَ نَظۡرَةٗ فِي ٱلنُّجُومِ

Transliteration: (Fanazara nazratan finnujoom)

ترجمہ: کنزالایمان - فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِ(88)فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ(89) || پھر اس نے ایک نگاہ ستاروں کو دیکھا۔ پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان پھر اس نے ستاروں کوایک نگاہ دیکھا۔ تو کہا :میں بیمار ہونے والا ہوں ۔ || پھر اس نے ستاروں کوایک نگاہ دیکھا۔ تو کہا :میں بیمار ہونے والا ہوں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 88 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَنَظَرَ نَظْرَةً: پھر اس نے ایک نگاہ دیکھا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قوم کا جواب سن کر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا ئی اور ایک نظر ستاروں  کی طرف ایسے دیکھا جیسے ستارہ شناس اور علمِ نجوم کے ماہر ستاروں  کے ملنے اور جدا ہونے کی جگہ کو دیکھاکرتے ہیں ،اس کے بعد فرمایا: ’’ میں  بیمار ہونے والا ہوں ۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم چونکہ ستاروں  کی بہت معتقد تھی ا س لئے وہ سمجھی کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ستاروں  سے اپنے بیمار ہونے کا حال معلوم کرلیا ہے۔( مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۸۸-۸۹، ص۱۰۰۴، ملخصاً)

نوٹ:یاد رہے کہ علمِ نجوم حق ہے اوریہ علم سیکھنے میں  مشغول ہونا منسوخ ہوچکا ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now