قرآن - 9:110 سورہ التوبة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

110
لَا يَزَالُ بُنۡيَٰنُهُمُ ٱلَّذِي بَنَوۡاْ رِيبَةٗ فِي قُلُوبِهِمۡ إِلَّآ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ,

Transliteration: (Laa yazaalu bunyaanu humul lazee banaw reebatan fee quloobihim illaaa an taqatta'a quloobuhum; wal laahu 'Aleemun Hakeem)

ترجمہ: کنزالایمان - لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(110) || وہ تعمیر جو چنی ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اُن کی تعمیر شدہ عمارت ہمیشہ اُن کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور اللہ علم والا ، حکمت والا ہے۔ || اُن کی تعمیر شدہ عمارت ہمیشہ اُن کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور اللہ علم والا ، حکمت والا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ التوبة آیت 110 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ: اُن کی تعمیر شدہ عمارت ہمیشہ اُن کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ان منافقوں نے جو عمارت تعمیر کی تھی وہ ہمیشہ اُن کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی اور اس کے گرائے جانے کا صدمہ باقی رہے گا یہاں تککہ قتل ہو کر یا مر کر یا قبر میں یا جہنم میں ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ مطلب یہ ہے کہ اُن کے دلوں کا غم و غصہ مرتے دم تک باقی رہے گا اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جب تک اُن کے دل اپنے قصور کی ندامت اور افسوس سے پارہ پارہ نہ ہوں اور وہ اخلاص سے تائب نہ ہوں اس وقت تک وہ اسی رنج و غم میں رہیں گے۔ (مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ص۴۵۶)

اعمال کے معاملے میں عقائد کی حیثیت :

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ اعمال کے معاملے میں عقائد کا درست ہونا اور باطن کا صاف ہو نابنیاد کی حیثیت رکھتا ہے اور جس طرح پانی پر کوئی عمارت قائم نہیں رہ سکتی بلکہ عمارت قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے سخت زمین پر بنایا جائے اسی طرح اعمال کے قائم رہنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی بنیاد درست عقائد اور تکبر،ریا وغیرہ سے صاف باطن پر رکھی جائے ،اگرعقائد درست نہ ہوں یا عقائدمیں پلپلہ پن ہو اور باطن بھی صاف نہ ہو تو ان پر اعمال کی عمارت قائم نہیں رہ سکتی اس لئے ہر عقلمند انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دین اور اعمال کی بنیاد درست عقائد ،اخلاص اور تقویٰ و پرہیز گاری پر رکھے تاکہ اس کے اعمال سے اسے نفع حاصل ہو۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now