قرآن - 9:115 سورہ التوبة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

115
وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِلَّ قَوۡمَۢا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰهُمۡ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ,

Transliteration: (Wa maa kaanal laahu liyudilla qawman ba'da iz hadaahum hatta yubaiyina lahum maa yattaqoon; innal laaha bikulli shai'in 'Aleem)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(115)اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یُحْیٖ وَ یُمِیْتُؕ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ(116) || اور اللہ کی شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت کرکے گمراہ فرمائے جب تک انہیں صاف نہ بتادے کہ کس چیز سے انہیں بچنا چاہیے بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ بیشک اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت جِلاتا ہے اور مارتا ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی والی اور نہ مددگار۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد اسے گمراہ کردے جب تک انہیں صاف نہ بتادے کہ کس چیز سے انہیں بچنا ہے ۔بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ بیشک اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے ،وہ زندہ کرتا ہے اور وہ مارتا ہے اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی حامی ہے اور نہ مددگار۔ || اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد اسے گمراہ کردے جب تک انہیں صاف نہ بتادے کہ کس چیز سے انہیں بچنا ہے ۔بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ بیشک اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے ،وہ زندہ کرتا ہے اور وہ مارتا ہے اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی حامی ہے اور نہ مددگار۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ التوبة آیت 115 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ:جب تک انہیں صاف نہ بتادے۔} آیت کا معنی یہ ہے کہ جو چیز ممنوع ہے اور اس سے اِجتناب واجب ہے اس پر  اللہ  تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندوں کی گرفت نہیں فرماتا جب تک کہ اس کی ممانعت کا صاف بیان اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے نہ آجائے لہٰذا مُمانَعت سے پہلے اس فعل کے کرنے میں حَرج نہیں۔ (مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ص۴۵۷، خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ۲ / ۲۸۸، ملتقطاً)شانِ نزول : جب مومنین کو مشرکین کے لئے اِستغفار کرنے سے منع فرمایا گیا تو انہیں اندیشہ ہوا کہ ہم پہلے جو استغفار کرچکے ہیں کہیں اس پر گرفت نہ ہو، اس آیت سے انہیں تسکین دی گئی اور بتایا گیا کہ ممانعت کا بیان ہونے کے بعد اس پر عمل کرنے سے مُؤاخَذہ ہوتا ہے۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ۲ / ۲۸۸)اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس چیز کے بارے میں شریعت کی طرف سے ممانعت نہ ہو وہ جائز ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now