Transliteration: (Aja'altum siqaayatal haaajji wa 'imaaratal masjidil haraami kamman aamana billaahi wal Yawmil Aakhiri wa jaahada fee sabeelil laah; laa yastawoona 'indal laah; wallaahu laa yahdil qawmaz zaalimeen)
{سِقَایَةَ الْحَآجِّ:حا جیوں کو پانی پلانے (والے) کو۔} اس آیت سے مراد یہ ہے کہ کفار کو مؤمنین سے کچھ نسبت نہیں اور نہ اُن کے اعمال کو اِن کے اعمال سے کوئی نسبت ہے کیونکہ کافر کے اعمال رائیگاں ہیں خواہ وہ حاجیوں کے لئے سبیل لگائیں یا مسجدِ حرام کی خدمت کریں ،ان کے اعمال کو مومن کے اعمال کے برابر قرار دینا ظلم ہے۔ (مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۴۳۰، ملخصاً) شانِ نزول: روزِ بدر جب حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ گرفتار ہو کر آئے تو انہوں نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے کہا کہ تم کو اسلام اور ہجرت و جہاد میں سبقت حاصل ہے تو ہم کو بھی مسجدِ حرام کی خدمت اور حاجیوں کے لئے سبیلیں لگانے کا شرف حاصل ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آگاہ کیا گیا کہ جو عمل ایمان کے ساتھ نہ ہوں وہ بے کار ہیں۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲ / ۲۲۳)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ التوبة آیت 19 تفسیر