Transliteration: (Yahzarul munaafiqoona an tunaz zala 'alaihim Sooratun tunabbi 'uhum bimaa feequloobihim; qulistahzi'oo innal laaha mukhrijum maa tahzaroon)
{ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ:جو ان کے دلوں کی چھپی باتیں بتادے۔} دلوں کی چھپی چیز ان کا نفاق ہے اور وہ بغض و عداوت جو وہ مسلمانوں کے ساتھ رکھتے تھے اور اس کو چھپایا کرتے تھے، سرور ِعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے معجزات دیکھنے اور آپ کی غیبی خبریں سننے اور ان کو واقع کے مطابق پانے کے بعد منافقوں کو اندیشہ ہوگیا کہ کہیں اللہ تعالیٰ کوئی ایسی سور ت نازل نہ فرمائے جس سے ان کے اَسرار ظاہر کردیئے جائیں اور ان کی رسوائی ہو۔ ان کے اس اندیشے کاذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے ’’اے پیارے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان منافقوں سے فرما دیں کہ تم نے جو مذاق اڑانا ہے وہ اڑالو، بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو ظاہر کرنے والاہے جس کے ظاہر ہونے سے تم ڈرتے ہو۔ (روح البیان، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ۳ / ۴۵۸-۴۵۹)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ التوبة آیت 64 تفسیر