Transliteration: (A'addal laahu lahum Jannaatin tajree min tahtihal anhaaru khaalideena feehaa; zaalikal fawzul 'azeem)
{لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ:لیکن رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے۔} اس سے پہلی آیات میں جہاد سے راہِ فرار اختیار کرنے میں منافقوں کا حال بیان کیا گیا اور اس آیت سے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا جذبۂ جہاد بیان کیا گیا کہ انہوں نے اللہتعالیٰ کی رضا کی طلب میں اور اس کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے کے لئے اپنے مال اور اپنی جانیں دونوں خرچ کر دیں۔ (تفسیر کبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۸، ۶ / ۱۱۹)
آیت ’’ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے دومسئلے معلوم ہوئے
(1)… جنت اور وہاں کی نعمتیں پیدا ہو چکی ہیں۔
(2)… جنتی اپنی اپنی جنت کے پورے پورے مالک ہوں گے۔ وہاں صرف مہمان کی طرح بغیر ملکیت کے نہ ہوں گے البتہ ان کی خاطر تواضع مہمانوں کی سی ہوگی۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ التوبة آیت 89 تفسیر