Transliteration: (Al A'raabu ashaddu kufranw wa nifaaqanw wa ajdaru allaa ya'lamoo hudooda maaa anzalal laahu 'alaa Rasoolih; wallaahu 'Aleemun Hakeem)
{اَلْاَعْرَابُ:دیہاتی۔} یعنی دیہات میں رہنے والے منافق کفر اور منافقت میں شہر میں رہنے والوں سے زیادہ سخت ہیں ، اس کا سبب یہ ہے کہ وہ لوگ علم کی مجالس اور علماء کی صحبت سے دور رہتے ہیں ، قرآن و حدیث اور وعظ ونصیحت نہیں سنتے ۔ وہ اسی قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جوفرائض، سُنَن اور اَحکام اپنے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل فرمائے ہیں ان سے جاہل رہیں۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹۷، ۲ / ۲۷۳)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جہالت شدت پیدا کرتی ہے لہٰذا جو شخص بلا وجہ شدت کا عادی ہے وہ علم سے دور ہے۔ ہمارے زمانے میں بھی ایک گروہ ایسی شدت کی طرف مائل ہے کہ سب کو مشرک قرار دیتا ہے یہ شدت بھی جہالت کی علامت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ دیہات والوں کو بھی چاہیے کہ علم حاصل کریں اور علماء و صالحین کی صحبت اختیار کریں کیونکہ علم اور اچھی صحبت جہالت و بے عملی کو ختم کردیتی ہے اور علم کی وجہ سے بے جا کی شدت کا خاتمہ ہوتا ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ التوبة آیت 97 تفسیر