Transliteration: (Fazarhum hatta yulaaqoo yawmahumul lazee feehi yus'aqoon)
{ فَذَرْهُمْ: تو تم
انہیں چھوڑ دو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جب یہ مشرکین عناد
میں اس حد تک پہنچ چکے ہیں اور
یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ اپنے کفر سے نہیں پھریں گے تو
آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور ان کی طرف توجہ نہ
فرمائیں یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے ملیں جس
میں بے ہوش کردئیے جائیں گے۔ اس دن سے مراد پہلی بار صور
پھونکے جانے کا دن ہے اور بعض مفسرین نے اس سے موت کا دن بھی مراد لیا ہے۔( جلالین
مع صاوی، الطور، تحت الآیۃ: ۴۵، ۶ / ۲۰۴۳، مدارک، الطور، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۱۱۷۷، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الطور آیت 45 تفسیر