قرآن - 43:10 سورہ الزخرف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

10
ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ مَهۡدٗا وَجَعَلَ لَكُمۡ فِيهَا سُبُلٗا لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ

Transliteration: (Allazee ja'ala lakumul arda mahdanw wa ja'ala lakum feehaa subulan la'allakum tahtadoon)

ترجمہ: کنزالایمان - الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(10) || جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے کئے کہ تم راہ پاؤ۔ ترجمہ: کنزالعرفان جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے بنائے تاکہ تم راہ پاؤ۔ || جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے بنائے تاکہ تم راہ پاؤ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزخرف آیت 10 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اَلَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا: جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے اظہار کے لئے اپنی مصنوعات کا ذکر فرمایا اور اپنے اوصاف و شان کا اظہار کیا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایاکہ عزت و علم والا اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا (جو کہ پھیلاوے اور ٹھہرے ہوئے ہونے میں  بستر کی طرح ہے) اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے مُتَحَرِّ ک بنا دیتا لیکن اس صورت میں  کوئی چیز اس پر نہ ٹھہرتی اور زمین سے نفع اٹھانا ممکن نہ رہتا تو یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے زمین کو ہموار اور ساکن بنایا، اور ا س نے تمہارے لیے اس زمین میں  راستے بنائے تاکہ تم دینی اور دُنْیَوی اُمور کے لئے سفر کے دوران اپنی منزل تک پہنچنے کی راہ پاؤ،اور اگر وہ چاہتا تو زمین کو ا س طرح بند بنا دیتا کہ اس میں  کوئی راستہ ہی نہ چھوڑتا ،اگر ایسا ہو جاتا تو ا س صورت میں  تمہارے لئے سفر کرنا ہی ممکن نہ رہتا جیساکہ بعض جگہ پہاڑ ہونے کی وجہ سے راستہ بند ہوجاتا ہے اور(زمینی) سفر ممکن نہیں  رہتا۔( خازن، الزخرف، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴ / ۱۰۲، صاوی، الزخرف، تحت الآیۃ: ۱۰، ۵ / ۱۸۸۷، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now