قرآن - 43:22 سورہ الزخرف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

22
بَلۡ قَالُوٓاْ إِنَّا وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا عَلَىٰٓ أُمَّةٖ وَإِنَّا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم مُّهۡتَدُونَ

Transliteration: (Bal qaalooo innaa wajadnaaa aabaaa'anaa 'alaaa ummatinw wa innaa 'alaaa aasaarihim muhtadoon)

ترجمہ: کنزالایمان - بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ(22) || بلکہ بولے ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر پر چل رہے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان بلکہ انہوں نے کہا:ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کے نقشِ قدم پر ہی راہ پانے والے ہیں ۔ || بلکہ انہوں نے کہا:ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کے نقشِ قدم پر ہی راہ پانے والے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزخرف آیت 22 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ: بلکہ انہوں  نے کہا:ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا۔} یعنی ان کے پاس کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں  ہے بلکہ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں  کہ فرشتوں  کی عبادت کرنے کی ان کے پاس صرف یہ دلیل ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم آنکھیں  بند کر کے بے سوچے سمجھے ان کی پیروی کرتے ہیں ۔( ابوسعود، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۲۲، ۵ / ۵۴۰، خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۲۲، ۴ / ۱۰۴، ملتقطاً)

 شریعت کے مقابلے میں  آباؤ اَجداد کے رسم و رواج کی پابندی کرنا بد ترین جرم ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ شریعت کے مقابلے میں  باپ داداؤں  کے رسم و رواج کی پابندی کرنا بد ترین جرم ہے جیسے آج کل بعض مسلمان شادی بیاہ یا مَرگ کے موقع پر ناجائز رسومات صرف اپنے پرانے باپ داداؤں  کی پیروی میں  مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ، اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے،اٰمین۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now