Transliteration: (Wa maa nureehim min aayatin illaa hiya akbaru min ukhtihaa wa akhaznaahum bil'azaabi la'allahum yarji'oon)
{وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ
اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا: اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے
وہ اپنی مثل (پہلی
نشانی) سے
بڑی ہی ہوتی۔} یعنی ہر ایک نشانی اپنی خصوصیت میں دوسری سے بڑھ
چڑھ کرتھی، مراد یہ ہے کہ ایک سے ایک اعلیٰ تھی۔
{وَ اَخَذْنٰهُمْ
بِالْعَذَابِ:
اور ہم نے انہیں مصیبت میں گرفتار کیا۔} یعنی جب فرعون اور
اس کی قوم نے سرکشی کی تو ہم نے انہیں مصیبت میں گرفتار کیا
تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے بازآجائیں اور کفر چھوڑ کر ایمان کو
اختیار کر لیں ۔یہ عذاب قحط سالی ، طوفان اور ٹڈی وغیرہ سے کئے گئے، یہ سب
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
نشانیاں تھیں جو اُن کی نبوت پر دلالت کرتی
تھیں اور ان میں ایک سے ایک بلندو بالاتھی۔( خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴ / ۱۰۷)
نوٹ:اس
عذاب کی تفصیل جاننے کے لئے سورۂ اَعراف کی آیت نمبر133 کے تحت تفسیر
ملاحظہ فرمائیں ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزخرف آیت 48 تفسیر