قرآن - 43:5 سورہ الزخرف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

5
أَفَنَضۡرِبُ عَنكُمُ ٱلذِّكۡرَ صَفۡحًا أَن كُنتُمۡ قَوۡمٗا مُّسۡرِفِينَ

Transliteration: (Afa nadribu 'ankumuz Zikra safhan an kuntum qawman musrifeen)

ترجمہ: کنزالایمان - اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ(5) || تو کیا ہم تم سے ذکر کا پہلو پھیردیں اس پر کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو کیا ہم تم سے قرآن کا نزول اس لئے روک دیں کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو؟ || تو کیا ہم تم سے قرآن کا نزول اس لئے روک دیں کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزخرف آیت 5 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا : تو کیا ہم تم سے قرآن کا نزول روک دیں ۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے کفارِ مکہ! تمہارے کفر میں  حد سے بڑھنے کی وجہ سے کیا ہم تمہیں  بیکار چھوڑ دیں  اور تمہاری طرف سے وحیِ قرآن کا رخ پھیردیں  اور تمہیں  حکم اور ممانعت کچھ نہ کریں ،(یہ تمہاری بھول ہے) ہم ایسا نہیں  کریں  گے۔

             حضرت قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: خدا کی قسم! اگر اس وقت یہ قرآنِ پاک اٹھالیا جاتا جب اس اُمت کے پہلے لوگوں  نے اس سے اِعراض کیا تھا ،تو وہ سب ہلاک ہوجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت و کرم سے اس قرآن کا نزول جاری رکھا۔( خازن، الزخرف، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۱۰۱)

 قربِ قیامت میں  قرآنِ مجید اُٹھا لیا جائے گا:

            یاد رہے کہ جب قیامت قریب ہو گی تو اس وقت قرآنِ پاک اٹھا لیا جائے گا،جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ حجرِ اَسْوَد اور قرآنِ پاک کو اٹھا نہ لیا جائے۔( الجامع الصغیر، حرف لا، ص۵۸۳، الحدیث: ۹۸۵۲)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now