Transliteration: (Yoolijul laila fin nahaari wa yoolijun nahaara fil laili wa sakhkharash shamsa wal qamara kulluny yajree li ajalim musammaa; zaalikumul laahu Rabbukum lahul mulk; wallazeena tad'oona min doonihee maa yamlikoona min qitmeer)
{یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ: وہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کے کچھ حصے کوکسی موسم میں دن میں داخل کردیتا ہے تو دن بڑھ جاتا ہے اور دن کے کچھ حصے کو کسی موسم میں رات میں داخل کردیتا ہے تورات بڑھ جاتی ہے، یہاں تک کہ بڑھنے والی رات یا دن کی مقدار پندرہ گھنٹے تک پہنچتی ہے اور گھٹنے والا نو گھنٹے کا رہ جاتا ہے ۔اور اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو کام میں لگادیا ،ان میں سے ہر ایک مقررہ میعاد یعنی روزِ قیامت تک چلتا رہے گا کہ جب قیامت آجائے گی تو ان کا چلنا مَوقوف ہوجائے گا اور یہ نظام باقی نہ رہے گا ۔یہی اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے جو معبود ہونے،رب اور مالک ہونے کے تمام اَوصاف کا جامع ہے تو تم اسے پہچانو،اس کی وحدانیّت کا اقرار کرو اور اس کے حکم کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی بجائے جن بتوں کو تم پوجتے ہو ان کی بے بسی کا حال یہ ہے کہ وہ کھجور کے چھلکے کی مقدار بھی تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتے ۔( روح البیان، فاطر، تحت الآیۃ: ۱۳، ۷ / ۳۳۲، مدارک، فاطر، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۹۷۴، ملتقطاً)
نوٹ:رات کو دن میں داخل کرنے کی تفسیر سورۂ آل عمران،آیت نمبر27اور سورج چاند کو مُسَخَّر کرنے کی تفسیر سورہ ٔرعد آیت نمبر2 اورسورہ ٔابراہیم آیت نمبر33میں بھی گزر چکی ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ فاطر آیت 13 تفسیر