Transliteration: (Awalam yaseeroo fil ardi fa yanzuroo kaifa kaana ‘aaqibatul lazeena min Qablihim wa kaanoo ashadda minhum quwwah; wa maa kaanal laahu liyu’jizahoo min shai’in fis samaawaati wa laa fil ard; innahoo kaana ‘Aleeman Qadeeraa)
{اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ: اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا۔} یعنی کیا کفار ِمکہ نے شام ،عراق اور یمن کے سفروں میں انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے والو ں کی ہلاکت وبربادی اور ان کے عذاب اور تباہی کے نشانات نہیں دیکھے تاکہ اُن سے عبرت حاصل کرتے حالانکہ وہ تباہ شدہ قومیں ان اہلِ مکہ سے طاقت وقوت میں زیادہ تھیں ، اس کے باوجود ان سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ وہ عذاب سے بھاگ کر کہیں پناہ لے سکیں ،اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی شے اسے عاجز کرسکے۔ بیشک وہ تمام موجودات کاعلم رکھنے والا اور تمام مُمکنات پر قدرت رکھنے والا ہے۔( مدارک، فاطر، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۹۸۲، روح البیان، فاطر، تحت الآیۃ: ۴۴، ۷ / ۳۶۲، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ فاطر آیت 44 تفسیر