قرآن - 40:1 سورہ غافر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

1
حمٓ

Transliteration: (Haa-Meeem)

ترجمہ: کنزالایمان - حٰمٓ(1)تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ(2) || یہ کتاب اُتارنا ہے اللہ کی طرف سے جو عزت والا علم والا۔ ترجمہ: کنزالعرفان حم۔ کتاب کا نازل فرمانا اللہ کی طرف سے ہے جو عزت والا، علم والاہے۔ || حم۔ کتاب کا نازل فرمانا اللہ کی طرف سے ہے جو عزت والا، علم والاہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ غافر آیت 1 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{حٰمٓ} ان حروف کا تعلق حروفِ مُقَطَّعات سے ہے اور ان کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ۔

{تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ: کتاب کا نازل فرمانا اللہ کی طرف سے ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید کو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی طرف سے نہیں  بنایا بلکہ یہ وہ کتاب ہے جسے اس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے جس کی شان یہ ہے کہ وہ عزت والا ہے اور تمام معلومات کا علم رکھنے والا ہے۔ (روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۲، ۸ / ۱۵۰)

            یاد رہے کہ قرآنِ کریم وہ عظیم الشّان کتاب ہے جسے نازل فرمانے والا عزت و علم والا، لانے والا بھی عزت و علم والا، جس نبی کی طرف لایا گیا وہ بھی عزت و علم والا ہے اور جو اس قرآن کو پڑھتا، سمجھتا اور عمل کرتا ہے وہ بھی عزت و علم والا ہوجاتا ہے البتہ یہاں  یہ فرق ذہن نشین رہے کہ اللہ تعالیٰ کاعزت والا اور علم والا ہونا ذاتی ہے کسی کا دیا ہو انہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کا علم کسی آلے یا غورو فکر کامحتاج نہیں  ،اس کا علم اَزلی اور اَبدی ہے کہ نہ اس کی کسی وقت سے کوئی ابتداء ہے اور نہ انتہا،اس کے علم کا ہونا ضروری ہے اور نہ ہونا محال ہے،اس کا علم دائمی ہے،اس میں  تبدیلی اور تَغَیُّر محال ہے اور اس کا علم انتہائی کامل ہے جبکہ مخلوق کاعزت اور علم والا ہونا اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہے اور جواوصاف اللہ تعالیٰ کے علم کے ہیں  وہ مخلوق کے علم کے ہر گز نہیں  ہیں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now