Transliteration: (Inna fee zaalika la aayatal liman khaafa 'azaabal Aakhirah; zaalika Yawmum majmoo'ul lahun naasu wa zaalika Yawmum mashhood)
{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً:بیشک اس میں نشانی ہے۔} یعنی گزشتہ امتوں کے عذابات اور ان کی ہلاکت کا جو ذکر ہوا اس میں عبرت اور نصیحت ہے اور ان کی ہلاکت و بربادی سے عبرت اور نصیحت وہی حاصل کرے گا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرے اور قیامت کے دن ا س کے عذاب سے خوفزدہ ہو کیونکہ جب وہ اس بات میں غورو فکر کرے گا کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں کے کفار پر دنیا میں ہی دردناک عذاب نازل فرمایا اور انہیں بڑی سخت سزا دی اور دنیا کا عذاب گویا کہ آخرت میں کفار کیلئے تیار کئے گئے عذاب کا ایک نمونہ ہے تو اس کے دل میں مزید اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف پیدا ہو گا۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۲ / ۳۷۰)
{ذٰلِكَ یَوْمٌ: وہ ایسا دن ہے۔} یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے گا اور حشر کے میدان میں سب کو حساب و کتاب، ثواب اور عذاب کیلئے جمع فرمائے گا اور اس دن ہر مخلوق حاضر ہوگی، ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہ سکے گا، اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو سزا دے گا جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی،اس کے حکم کی مخالفت کی اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی ہوگی۔ (تفسیر طبری، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۷ / ۱۱۲)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ هود آیت 103 تفسیر