{قَالَ:فرمایا۔} کفار کے اعتراضات کے جواب میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’تم پر عذاب نازل کرنے کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ،وہ جب چاہے گا ا س عذاب کو تم پر نازل کر دے گا اور جب اس نے عذاب نازل کرنے کا ارادہ فرمالیا تو تم اُس عذاب کو روک سکو گے اورنہ اُس سے بچ سکو گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفر یا بد عملی پر عذاب آنا ضروری نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ارادے پر موقوف ہے۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۳۳، ۶ / ۳۴۱، روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۳۳، ۴ / ۱۲۰، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ هود آیت 33 تفسیر