{وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ:اور نوح کی طرف وحی بھیجی گئی۔} اس آیت میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ خبر دی گئی ہے کہ ان کی قوم کے جو لوگ کفر پر اَڑے ہوئے ہیں ان کا ایمان قبول کرنا محال ہے لہٰذا ان کے ایمان قبول کرنے کی توقع نہ رکھیں۔ آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی بھیجی کہ آپ کی قوم کے جن لوگوں سے ایمان قبول کرنے کی توقع تھی وہ تو ایمان قبول کر چکے ، ان کے علاوہ جو لوگ اپنے کفر پر ہی قائم ہیں وہ اب کسی صورت ایمان قبول نہیں کریں گے لہٰذا اس طویل مدت کے دوران کفار کی طرف سے آپ کو جس تکذیب، اِستہزاء اور اَذِیَّت کا سامنا ہوا اس پر غم نہ کرو ، ان کفارکے کرتوت ختم ہو گئے اور اب ان سے انتقام لینے کا وقت آگیا ہے۔(ابوسعود، ہود، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳ / ۲۹) ایمان لانے والے حضرات کی تعداد مفسرین کے بیان کے مطابق تقریباً اسی(80) تھی۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ هود آیت 36 تفسیر