قرآن - 11:9 سورہ هود ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

9
وَلَئِنۡ أَذَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِنَّا رَحۡمَةٗ ثُمَّ نَزَعۡنَٰهَا مِنۡهُ إِنَّهُۥ لَيَـُٔوسٞ كَفُورٞ

Transliteration: (Wa la'in azaqnal insaana minnaa rahmatan summa naza'naahaa minhu, innahoo laya'oosun kafoor)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَىٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُۚ-اِنَّهٗ لَیَـٴُـوْسٌ كَفُوْرٌ(9) || اور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر اسے اس سے چھین لیں ضرور وہ بڑا ناامید ناشکرا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر وہ رحمت اس سے چھین لیں توبیشک وہ بڑا مایوس اور ناشکرا (ہوجاتا) ہے۔ || اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر وہ رحمت اس سے چھین لیں توبیشک وہ بڑا مایوس اور ناشکرا (ہوجاتا) ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ هود آیت 9 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَىٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً:اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں۔} ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں ’’اَلْاِنْسَانَ‘‘ سے مراد مُطلق انسان ہے پھر (آیت نمبر 11میں ) اس سے صبر کرنے والے اور نیک مسلمانوں کا اِستثنا ء فرمایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت میں مذکور ’’ اَلْاِنْسَانَ‘‘ میں مومن اور کافر دونوں داخل ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ’’اَلْاِنْسَانَ‘‘ سے کافر انسان مراد ہے۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۹، ۶ / ۳۲۱-۳۲۲) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ چکھائیں اور صحت، امن، وسعتِ رزق اور دولت عطا کریں پھر یہ سب اس سے چھین لیں اور اسے مَصائب میں مبتلا کردیں تو بیشک وہ  دوبارہ اس نعمت کے پانے سے مایوس ہوجاتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے اپنی اُمید ختم کرلیتا ہے اور صبر و رضا پر ثابت قدم نہیں رہتا اور گزشتہ نعمت کی ناشکری کرتا ہے۔ (مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۹، ص۴۹۱، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۹، ۲ / ۳۴۲، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now