{وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ: اور اگر تم ان سے پوچھو۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کافراگرچہ کفر اورشرک کی وادیوں میں گھوم رہے ہیں لیکن اگران سے سوال کیاجائے کہ بتاؤیہ زمین اورآسمان کس نے بنائے ہیں ؟تو ضروران کاجواب یہ ہوگاکہ اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں ۔ اُن کے اقرار سے یہ لازم آتا ہے کہ جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے وہ اللہ واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ،تو واجب ہوا کہ اس کی حمد کی جائے ،اس کا شکر ادا کیا جائے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کی جائے جبکہ ان جاہلوں کا حال یہ ہے کہ خالق صرف اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں اور عقیدہ یہ رکھتے ہیں کہ (مَعَاذَ اللہ) شرک اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتا ہے۔( مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۹۲۰، صاوی، لقمان، تحت الآیۃ: ۲۵، ۵ / ۱۶۰۴، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ لقمان آیت 25 تفسیر